اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بحرین میں آل خلیفہ حکومت کے ذریعے انقلابی عوام کو مسلسل تشدد کا شکار بنائے جانے کی مذمت میں قم کے حوزہ علمیہ کے طلاب نے ایک احتجاجی اجتماع کیا جس سے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے پرجوش خطاب کیا۔
حجۃ الاسلام و المسلمین محمد حسن اختری نے بحرین میں جاری تشدد کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بحرین کے مظلوم عوام گزشتہ چھے سال سے اپنے حقوق کے دفاع کی خاطر مسلسل پرامن احتجاج کر رہے ہیں جبکہ انہیں انتہائی بے دردی سے سرکوب کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بحرین پر آل سعود کے تسلط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بحرین کے لوگ تاہم پرامن طریقے سے اپنے حقوق کی مانگ کرتے آئے ہیں اور اپنے رہبر آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کی شہریت کی منسوخی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے آئے ہیں لیکن آل خلیفہ کی حکومت امن پسندی کے طریقے سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں جیلوں میں بند کر رہی ہے یا سعودی اہلکاروں کے ذریعے لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: بحرین کے لوگوں نے چھے سال سے اس ظالمانہ حکومت کے مقابلے میں استقامت اور ثابت قدمی کا ثبوت دیا ہے اور اب بین الاقوامی اداروں سے اس حکومت کے خلاف ٹھوس اقدام کا مطالبہ کیا۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے زور دے کر کہا کہ حکومت بحرین کو چاہیے کہ اپنی عقل سے کام لے اور اپنے شہریوں کے ساتھ ظالمانہ رویے سے پیش نہ آئے اور گفتگو اور مذاکرات کے ذریعے عوام کی مشکلات کا حل تلاش کرے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ ایرانی اور غیر ایرانی طلاب یہاں پر اس لیے جمع ہوئے ہیں تاکہ بحرین کی ظالم اور جابر حکومت سے کہیں کہ پہلوی حکومت سے عبرت حاصل کرو اور تشدد کا سلسلہ بند کرو۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہم طلاب علوم دینیہ بحرین کے علماء سے یہ کہنے آئے ہیں تم اکیلے نہیں ہو ہم بھی آپ کے قانونی مطالبات کی حمایت کرتے ہیں انشاء اللہ، خدا تمہارے ساتھ ہے ظالموں سے مت ڈریں ظلم کا ایک دن ضرور خاتمہ ہو گا۔
حجۃ الاسلام و المسلمین اختری نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ استعماری طاقتوں کا کہنا ہے کہ ایران علاقے کے ملکوں میں مداخلت کرتا ہے کہا: دنیا کے مظلوم اور مستضعف لوگوں کی حمایت مداخلت نہیں ہے یہ ہماری شرعی ذمہ داری ہے، دین مقدس اسلام نے ہر مسلمان پر یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ جہاں بھی کسی مسلمان بھائی کو ظلم کا نشانہ بنایا جائے دوسرا مسلمان اس کے دفاع کے لیے اٹھے اور صدائے احتجاج بلند کرے۔
انہوں نے کہا: عالمی استکبار مخصوصا امریکہ، برطانیہ اور ان کی ناجائز اولاد آل سعود یہ سن لیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی نصیحتیں اور رہبر انقلاب اسلامی کے دستورات اسلامی ممالک میں مداخلت نہیں ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر مداخلت کی بات ہے سب سے زیادہ مداخلت تو علاقے میں تمہاری ہے۔ آج بحرین اور یمن میں سعودی فوجی کارندوں کا وجود مداخلت نہیں ہے؟ ایک سال سے نائیجیریا میں شیخ زکزاکی تمہارے حکم سے جیل میں بند ہے کیا یہ مداخلت نہیں ہے؟
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے کہا:تمام مسلمانوں، دینی مراجع اور رہبر انقلاب اسلامی کی یہ شرعی ذمہ داری ہے کہ جہاں بھی ظلم دیکھیں اس کے مقابلے میں موقف اختیار کریں، نصیحت اور موعظہ کریں، لہذا جان لیں مراجع کرام کے بیانات، لوگوں کے مظاہرے یہ سب شرعی اور قانونی وظیفہ ہے جسے سب جانتے ہیں۔
آقائے اختری نے آخر میں کہا کہ اگر واٹیکان ایک عیسائی دینی مرجعیت کے عنوان سے پوری دنیا میں اپنے عیسائیوں، کلیساؤوں اور ان کی زمینوں کے تحفظ کے لیے مداخلت کر سکتا ہے تو کیا یہ حق اسلامی سماج میں پائے جانے والے دینی مراجع کو حاصل نہیں ہے؟ دینی مراجع اور رہبر انقلاب اسلامی بھی ظلم کے شکار مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھائیں گے اور ان کے حق کا دفاع کریں گے۔
انہوں نے بحرین کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم مکتب حسینی کے پروردہ ہو شہادت ہم سب کے لیے افتخار ہے تمہیں اپنے رہنما شیخ عیسی قاسم کی بھرپور حمایت کرنا ہو گی انشاء اللہ، خدا کے وعدے کے مطابق کامیابی یقینی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲